ابنا: عراقی حکومت نے اپنے ملک میں جاری تکفیری دہشتگردی میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے ثبوت و شواہد پیش کئے ہیں۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق عراقی پارلیمنٹ کے رکن علی الشلاۃ نے کہا ہے کہ حکومت نے بغداد میں متعین غیر ملکی سفیروں کو ایسے ثبوت وشواہد پیش کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آل سعود کی حکومت اور بعض دیگر ممالک، عراق میں جاری دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ علی شلاۃ نے غیر ملکی سفیروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسلامی اور عرب ممالک کو دہشتگردی کے خلاف عالمی برادری کے موقف کی پیروی کرنے کی ترغیب دلائيں۔قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں عراق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد دہشتگردوں کے مقابلے کے لئے عراقی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کی تھی۔ ادھر عرب لیگ نے بھی دہشتگردی کے خلاف عراق کی حمایت کرنے پر آمادگي کا اعلان کیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں اور عالمی شخصیات کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب عراق، شام، لبنان، یمن، صومالیہ اور پاکستان و افغانستان جیسے ملکوں میں تکفیری دہشتگردوں کی بھرپور مالی اور سیاسی حمایت کررہا ہے۔ حال ہی میں روس نے اعلان کیا ہے کہ اس کے شہر ولووگراڈ میں ہونے والے بم دھماکوں میں تکفیری دہشتگرد ملوث ہیں اور ان بم دھماکوں کے تار سعودی عرب سے جڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
12 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 496520
عراقی حکومت نے اپنے ملک میں جاری تکفیری دہشتگردی میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے ثبوت و شواہد پیش کئے ہیں۔